مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
(في) ثواب الولد يقدمه (الرجل) باب: کسی شخص کا کوئی بچہ انتقال کر جائے تو اس کے ثواب کا بیان
١٢٢٥١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين قال: حدثتني امرأة كانت تأتينا يقال: لها (ماوية) (١) أنها دخلت على عبيد اللَّه بن معمر ⦗١٦٣⦘ وعنده رجل من أصحاب النبي ﷺ، (فحدث ذلك الرجل عبيد اللَّه بن معمر عن النبي ﷺ) (٢) أن امرأة أتته بصبي لها (فقالت) (٣): يا رسول اللَّه ادع (اللَّه) (٤) أن يبقيه فقد مضى لي ثلاثة، فقال لها رسول اللَّه ﷺ: " (أمنذ) (٥) أسلمت؟ " (قالت) (٦): نعم، قال: "جنة (حصينة) (٧) من النار"، إلا أنه قال لها: " (أمنذ) (٨) أسلمت؟ " (ثلاثًا) (٩) جنة حصينة من النار؛ قالت: فقال لي عبيد اللَّه: يا (ماوية) (١٠) تعالي فاسمعي هذا الحديث، (قال) (١١): (فسمعته) (١٢) ثم خرجت من عند عبيد اللَّه (فأتتنا) (١٣) (وحدثتنا) (١٤) به (١٥).حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک عورت نے بیان کیا جو ہمارے پاس آئی تھی جس کا نام ماویہ تھا، وہ کہتی ہے کہ میں حضرت عبید اللہ بن معمر کی خدمت میں حاضر ہوئی ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی موجود تھے، اس صحابی نے بیان کا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو باقی رکھیں بیشک میرے تین بچے فوت ہوچکے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا جب سے تو مسلمان ہوئی ہے تب سے ؟ اس نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تیرے لیے آگ سے محفوظ ڈھال ہے۔