حدیث نمبر: 12248
١٢٢٤٨ - حدثنا شبابة عن شعبة عن معاوية بن قرة عن أبيه أن رجلًا كان يأتي النبي ﷺ ومعه ابن له فقال له رسول اللَّه ﷺ: "أتحبه؟ " (قال: نعم) (١)، فقال: "أحبك اللَّه كما (تحبه) (٢) "، قال: ففقده النبي ﷺ فقال: "ما فعل ابنك؟ " فقال: أشعرت أنه توفي؟ فقال له النبي ﷺ: "أما يسرك أنه لا تأتي بابًا من أبواب الجنة تستفتحه إلا جاء يسعى حتى (يفتحه) (٣) لك؟ " (فقيل) (٤): يا رسول اللَّه أله خاصة أم للناس عامة؟ قال: "لكم عامة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تو اس سے محبت کرتا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے جس طرح تو اس سے محبت کرتا ہے، پھر (کچھ عرصہ بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کو گم پایا تو فرمایا : تیرے بیٹے کو کیا ہوا ؟ پھر فرمایا : کیا تو نے اس کی وفات کا اعلان کروایا تھا ؟ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر آئے اس کو کھلوانے کیلئے، مگر تیرا بیٹا دوڑتا ہوا آئے اور تیرے لیے جنت کا دروازہ کھلوا دے ؟ اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ صرف میرے لیے خاص ہے یا لوگوں کیلئے عام ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سب کے لیے ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ز].
(٢) في [ز]: (أحبه).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (يستفتحه).
(٤) في [أ، ب، هـ، ص]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٥٥٩٥)، والنسائي ٤/ ٢٢، والحاكم ١/ ٣٨٤، والطيالسي (١٠٧٥)، والطبراني ١٩/ ٥٤، والبيهقي في الآداب (٩٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12248، ترقيم محمد عوامة 12008)