مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الكافر والسبي يتشهد مرة ثم يموت أيصلى عليه؟ باب: کافر یا قیدی ایک بار شھادت کا اقرار کرے اور پھر فوت ہو جائے تو کیا اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی
حدیث نمبر: 12235
١٢٢٣٥ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سهل السراج قال: (سمعت) (١) محمد بن سيرين سئل عن قوم أقبلوا (بسبي) (٢)، فكانوا (إذا) (٣) (أمروهم) (٤) أن ⦗١٥٦⦘ يصلوا (صلوا) (٥)، وإذا (لم يأمروهم) (٦) لم يصلوا. فمات رجل منهم فقال: تبين لكم أنه من أصحاب الجحيم؟ (فقالوا) (٧): لا) (٨) (٩) ما تبين لنا، قال: اغسلوه وكفنوه وحنطوه وصلوا عليه (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن سراج فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ تیری بنا کر لائے گئے۔ ان کی حالت پر کہی کہ اگر انہیں نماز کا کہا جاتا تو نماز پڑھتے، اگر نہ کہا جاتا تو نہ پڑھتے۔ ان میں سے ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے، لیکن اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ؟ فرمایا کیا تم پر ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ جہنمی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں تو فرمایا اس کو غسل دو ، کفن پہناؤ، خوشبو لگاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔
حواشی
(١) في [ص]: (سألت).
(٢) في [أ]: (بشيء)، وفي [ص]: (بسي).
(٣) سقط من: [ف، هـ].
(٤) في [أ]: (أمرهم).
(٥) في [أ]: (يصلوا)، وفي [هـ]: (فصلوا).
(٦) في [ز]: (أمرناهم).
(٧) في [ص، ز]: (قالوا).
(٨) سقط من: [ز].
(٩) في [ص، ز]: زيادة (قال).
(١٠) في [ص، ز]: زيادة (لم يصلوا).