مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الكافر والسبي يتشهد مرة ثم يموت أيصلى عليه؟ باب: کافر یا قیدی ایک بار شھادت کا اقرار کرے اور پھر فوت ہو جائے تو کیا اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی
١٢٢٣٤ - حدثنا شريك عن (عبد اللَّه) (١) بن عيسى (عن) (٢) عبد اللَّه بن (جبر) (٣) عن أنس بن مالك قال: كان شاب يهودي يخدم النبي ﷺ فمرض، فأتاه النبي ﷺ يعوده (فقال) (٤): " (أفتشهد) (٥) أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه"، قال: فجعل ينظر إلى أبيه فقال: قل كما يقول لك محمد، (فقال) (٦)، ثم مات، (فقال) (٧) النبي ﷺ: "صلوا على صاحبكم" (٨).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نوجوان تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس یہودی نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اس کے والد نے کہا اسی طرح کہو جیسا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے ہیں، اس نے اسی طرح کہا اور اس کا انتقال ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو۔