مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت له القرابة (المشرك) يحضره أم لا باب: کسی شخص کا قریبی رشتہ دار مشرک مر جائے تو کیا وہ اس کے جنازے میں شریک ہو گا؟
حدیث نمبر: 12210
١٢٢١٠ - حدثنا ابن فضيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: مات رجل نصراني (فوكله) (١) ابنه إلى أهل دينه، فذكر ذلك لابن عباس فقال: ما كان عليه لو مشى معه (وأجنه) (٢) (واستغفر) (٣) له ما كان حيًا، ثم تلا: ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ﴾ (الآية) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی شخص کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے اس کو ان کے مذہب والوں کے سپرد کردیا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہ تھا اگر یہ اس کے ساتھ جاتا اور اس کو دفناتا اور اپنی زندگی میں اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إبْرَاہِیمَ لأَبِیہِ }۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (فوكل).
(٢) في [هـ]: (ودفنه)، وفي [أ]: (وأجثة)، وفي [ب]: (أحثه).
(٣) في [أ، ب]: (فاستغفر).
(٤) في [هـ، ف]: (زيد).