مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الرجل يموت له القرابة (المشرك) يحضره أم لا باب: کسی شخص کا قریبی رشتہ دار مشرک مر جائے تو کیا وہ اس کے جنازے میں شریک ہو گا؟
حدیث نمبر: 12208
١٢٢٠٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: مات رجل نصراني وله ابن مسلم فلم يتبعه فقال ابن عباس: كان ينبغي له أن يتبعه ويدفنه ويستغفر له في حياته (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی کا انتقال ہوا اس کا ایک مسلمان بیٹا تھا جو اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوا، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مناسب تھا کہ وہ اپنے باپ کے جنازے کے ساتھ جاتا اس کو دفن کرتا اور اپنی زندگی میں اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا۔