مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الرجل يدخل الخلاء ومعه الدراهم باب: منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
حدیث نمبر: 1218
١٢١٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان لا يرى بأسًا أن يدخل (الرجل) (١) الخلاء ومعه الدراهم البيض. قال: وكان القاسم بن محمد يكرهه، ولا يرى بالبيع والشراء (بها) (٢) بأسًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی بیت الخلاء میں سفید ! اس زمانے میں دراہم پر اللہ تعالیٰ کا نام یا کوئی آیت قرآنی لکھی ہوتی تھی، اس لیے اہل علم نے انہیں بیت الخلاء میں ساتھ لے جانے کو مکروہ قرار دیا تھا۔ دراہم لے کر داخل ہو۔ جبکہ قاسم بن محمد بیت الخلاء میں لے جانے کو مکروہ خیال کرتے تھے، جبکہ ان کے ذریعے خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حواشی
(١) سقط من: [د].
(٢) في [جـ، ك]: (بهما)، وسقط من: [أ، هـ].