حدیث نمبر: 12174
١٢١٧٤ - حدثنا عبدة بن سليمالن عن هشام عن أبيه عن عائشة أن أم سلمة ذكرت للنبي ﷺ نيسة (قد) (١) (رأتها في أرض الحبشة يقال لها مارية، فذكرت له ما رأت فيها من الصور فقال رسول اللَّه ﷺ) (٢): "أولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح أو الرجل الصالح بنوا على (قبره) (٣) مسجدًا وصوروا فيه تلك الصور، فأولئك شرار الخلق عند اللَّه ﷿" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کنیسہ کا ذکر فرمایا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا، اور ان تصویروں کا بھی ذکر فرمایا جو اس میں دیکھی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایسی قوم ہیں جب ان میں کوئی شخص انتقال کرتا ہے تو یہ اس کی قبر پر مسجد (سجدہ گاہ) بنا لیتے ہیں اور اس میں اس کی تصویریں لگا دیتے ہیں یہی لوگ اللہ کے نزدیک مخلوق میں سب سے بدتر ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ص].
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [أ]: (قبر).