حدیث نمبر: 12167
١٢١٦٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن (أبيه) (١) قال: لما فتح رسول اللَّه ﷺ مكة أتى (جذم) (٢) قبر فجلس إليه فجعل كهيئة المخاطب (وجلس) (٣) الناس [حوله فقام وهو يبكي فتلقاه عمر وكان من أجرأ الناس عليه، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول اللَّه ما الذي أبكاك؟ قال: "هذا قبر أمي، سألت] (٤) ربي الزيارة فأذن لي، وسألته الاستغفار فلم يأذن لي، فذكرتها (فرقت) (٥) نفسي فبكيت". قال: فلم ير يومًا كان أكثر باكيًا منه يومئذ (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پرانی قبر پر تشریف لائے اور اس کے پاس بیٹھ گئے، آپ مخاطب کی طرح ہوگئے، اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمر ملے اور حضرت عمر لوگوں میں سے آپ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والے تھے، حضرت عمر نے فرمایا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ میری والدہ ماجدہ کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے اس کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، اور میں نے استغفار کی اجازت مانگی تو وہ مجھے نہیں ملی، میں نے ان کو یاد کیا تو میرے دل کو ترس آیا اور میں رو پڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روئے تھے اس سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

حواشی
(١) في [ص]: (ابنه).
(٢) في [هـ، أ، ب]: (حرم)، وجذم الشيء: أصله.
(٣) في [ص]: (واجلس).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من [ص].
(٥) في [هـ]: (فذرفت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12167
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الحاكم ١/ ٣٧٥، والنسفي في القند ص ١٢٤، وابن سعد ١/ ١١٧، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٨٩، وابن شاهين في ناسخ الحديث (٦٥٢)، والفاكهي (٢٣٧٧)، وابن شبة في أخبار المدينة (٣٥٤) وأصله عند مسلم (٩٧٧) وأحمد (٢٣٠٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12167، ترقيم محمد عوامة 11930)