حدیث نمبر: 12166
١٢١٦٦ - حدثنا محمد بن عبيد [(قال) (١): حدثنا] (٢) يزيد بن كيسان (عن أبي حازم) (٣) عن أبي هريرة قال: زار رسول اللَّه ﷺ قبر أمه فبكى وأبكى من (كان) (٤) حوله فقال: "استأذنت ربي (في) (٥) (أن) (٦) أستغفر لها فلم يأذن لي واستأذنته في ⦗١٣٧⦘ أن أزور قبرها فأذن لي، فزوروا القبور فإنها تذكركم (الموت) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی اور آپ رو پڑے اور آپ کے اردگرد جو حضرات تھے وہ بھی رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کروں، تو مجھے اجازت نہیں ملی، اور میں نے اپنے رب سے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو اس سے تمہیں موت یاد آئے گی۔ (موت کی یاد تازہ ہوگی) ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ز]: (نا).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) سقط من: [ز، ص].
(٥) سقط من: [هـ، أ، ب].
(٦) سقط من: [ص].
(٧) في [هـ]: زيادة (الأخرة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12166
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يزيد بن كيسان صدوق، أخرجه مسلم (٩٧٦) وأحمد (٩٦٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12166، ترقيم محمد عوامة 11929)