حدیث نمبر: 12155
١٢١٥٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن ابن (أشوع) (١) عن حنش (الكناني) (٢) قال: دخل (عليّ) (٣) على صاحب شرطة فقال: انطلق فلا تدع زخرفًا إلا ألقيته (ولا قبرًا) (٤) إلا سويته ثم (دعاه) (٥) فقال: هل تدري إلى أين (بعثتك) (٦)؟ بعثتك إلى ما بعثني عليه رسول اللَّه ﷺ (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش الکنانی فرماتے ہیں کہ سپاہی والا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ کو اس نے فرمایا، چلتا جا، کوئی سامان نہ چھوڑنا مگر اٹھا لینا، اور کوئی قبر بغیر برابر کیے نہ چھوڑنا، آپ نے اس کو بلا کر پوچھا کہ تجھے معلوم ہے میں نے تجھے کس کام کیلئے بھیجا ہے ؟ اس کام کیلئے بھیجا ہے جس کام کیلئے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھیجا تھا۔
حواشی
(١) في [أ]: (اسبوع)، وفي [ص]: (أسرع).
(٢) في [ص]: (الكتانى).
(٣) في [أ، ب، ز]: (سقطت).
(٤) في [ص]: (ولا قبر).
(٥) في [هـ]: (دعاء).
(٦) سقط من: [ب، هـ].