حدیث نمبر: 12153
١٢١٥٣ - حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن ثمامة بن (شفي) (١) قال: خرجنا غزاة في زمان معاوية إلى هذا الدرب وعلينا فضالة بن عبيد قال: فتوفي ابن (عم) (٢) لي (يقال له) (٣) نافع، فقام معنا فضالة على حضرته، فلما دفناه قال: خففوا عن حفرته (فإن) (٤) رسول اللَّه ﷺ كان يأمر بتسوية القبور (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثمامہ بن شفی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت معاویہ کے دور میں غزوہ (جنگ) کے لئے اس شہر سے نکلے، ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید بھی تھے، آپ کے چچا کے لڑکے حضرت نافع انتقال کر گئے، حضرت فضالہ ہمارے ساتھ آپ کی قبر پر کھڑے ہوئے، جب ہم نے اس کو دفن کردیا، تو آپ نے فرمایا اس کی قبر ہلکی اور برابر کرو، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ص]: (سقي).
(٢) في [ص]: (عمر).
(٣) في [ص]: (فقاله)، وفي [أ، ب، ز]: (فقال له).
(٤) في [ب]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12153
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وقد صرح ابن إسحاق بالسماع عند أحمد (٢٣٩٣٦)، أخرجه مسلم (٩٦٨)، وأبو داود (٣٢١٩)، والنسائي ٤/ ٨٨، والطبراني ١٨/ ٨٠٩، والبيهقي ٣/ ٤١١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12153، ترقيم محمد عوامة 11916)