مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما ذكر في (التسليم) على القبور إذا مر بها من رخص في ذلك باب: جب قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کرے، اور کچھ حضرات نے اس میں رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 12145
١٢١٤٥ - حدثنا يحيى بن آدم عن زهير عن موسى بن عقبة أنه رأى سالم بن (عبد اللَّه) (١) لا يمر بليل ولا نهار بقبر إلا (سلم) (٢) عليه ونحن مسافرون معه يقول: السلام عليكم، فقلت له في ذلك فأخبرنيه عن أبيه أنه كان يصنع ذلك (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عقبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلام بن عبد اللہ کو دیکھا دن ہو یا رات وہ جس قبر کے پاس سے بھی گزرتے تو اسکو سلام کرتے، اور ہم آپ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ فرماتے السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ میں نے آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ تو مجھے اس کے بارے میں بتلایا کہ ان کے والد صاحب اس طرح کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ص]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [هـ]: (يسلم).