مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الدعاء للميت بعد ما يدفن ويسوي عليه باب: میت کو دفنانے اور اس پر مٹی برابر کرنے کے بعد دعا کرنا
١٢٠٦٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (عمير) (١) بن سعيد قال: صليت مع علي على يزيد بن المكفف فكبر عليه أربعًا [ثم مشى حتى أتاه (فقال) (٢): ⦗١٠٩⦘ اللهم عبدك وابن عبدك نزل بك اليوم فاغفر له ذنبه ووسع عليه مدخله] (٣) فإنا لا نعلم (٤) إلا خيرًا وأنت أعلم به (٥).حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ جنازے کے ساتھ چل کر جب قبر کے پاس آئے تو یوں دعا مانگی : اللَّہُمَّ عَبْدُک ، وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ فَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِ مُدْخَلَہُ فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کے گناہوں کو معاف فرما اور اس کی قبر کو کشادہ فرما۔ ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “