حدیث نمبر: 12065
١٢٠٦٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (عمير) (١) بن سعيد قال: صليت مع علي على يزيد بن المكفف فكبر عليه أربعًا [ثم مشى حتى أتاه (فقال) (٢): ⦗١٠٩⦘ اللهم عبدك وابن عبدك نزل بك اليوم فاغفر له ذنبه ووسع عليه مدخله] (٣) فإنا لا نعلم (٤) إلا خيرًا وأنت أعلم به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ جنازے کے ساتھ چل کر جب قبر کے پاس آئے تو یوں دعا مانگی : اللَّہُمَّ عَبْدُک ، وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ فَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِ مُدْخَلَہُ فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کے گناہوں کو معاف فرما اور اس کی قبر کو کشادہ فرما۔ ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عمرو).
(٢) في [أ، ب]: (وقال).
(٣) تكرر ما بين المعكوفين في: [هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (منه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12065
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12065، ترقيم محمد عوامة 11831)