حدیث نمبر: 1200
١٢٠٠ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس الأسدي عن علي بن أبي عائشة قال: كان عمر رجلًا أهلب (١)، (فكان) (٢) يحلق عنه الشعر، وذكرت له النورة فقال: النورة من النعيم (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ وہ اپنے جسم کے بالوں کو مونڈا کرتے تھے۔ ان کے سامنے کسی نے نورہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نورہ تو خوش پروری کا حصہ ہے۔
حواشی
(١) في حاشية [جـ]: (تفسير الأهلب، وهو كثير الشعر).
(٢) في [أ]: (وكان).
(٣) منقطع؛ علي لا يروي عن عمر.