حدیث نمبر: 11889
١١٨٨٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طلحة عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: أميران (وليسا) (١) (بآمرين) (٢): الرجل يصلي على الجنازة ليس له أن يرجع إلا بإذن أهلها، والمرأة تكون مع القوم فتحيض قبل أن تطوف بالبيت يوم النحر ليس لهم أن ينفروا إلا بإذنها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی امیر نہ ہونے کے باوجود بھی امیر ہیں، کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو وہ بغیر اجازت کے واپس نہ لوٹے، اور کوئی عورت (حج کے سفر میں) ہے اور اس کو طواف سے پہلے یوم النحر میں حیض آجائے، تو ان کے لیے اس عورت کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [ص]: (وليا).
(٢) في [أ، ب، ز]: (بأميرين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11889
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ليث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11889، ترقيم محمد عوامة 11662)