مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من قال: ليس على الميت دعاء مؤقت في الصلاة عليه وادع بما بدا لك باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مقرر دعا نہیں ہے بلکہ جو جی میں وہ کر لے
حدیث نمبر: 11713
١١٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) يعلى بن عبيد عن موسى الجهني قال: سألت الحكم والشعبي وعطاء (ومجاهدًا) (٢): (أفي) (٣) الصلاة على الميت شيء موقت؟ فقالوا: لا، إنما أنت شفيع، فاشفع بأحسن ما تعلم.مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ الجھنی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم ، حضرت شعبی ، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ نماز جنازہ کے لیے کوئی مخصوص دعا ہے۔ سب حضرات نے فرمایا : نہیں، آپ تو اس کی سفارش (شفاعت) کرنے والے ہیں، پس جو اچھی سفارش آپ جانتے ہو وہ پڑھ لو۔ (کر لو) ۔
حواشی
(١) في [ز]: (أخبرنا).
(٢) في [ص]: (مجاهد).
(٣) في [ز]: (في).