مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في أن لا تحمل الجنازة حتى يرجع باب: کوئی شخص جنازے میں شریک ہو لیکن اسکو کندھا نہ دے
حدیث نمبر: 11691
١١٦٩١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (ثنا) (١) البراء بن (يزيد) (٢) قال: رأيت الشعبي في جنازة فرأيته يمشي خلفها ولا يحملها، ولم يمس عودها حتى وضعت على (شفير) (٣) القبر، ثم تنحى فجلس، وكان شيخًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت البراء بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے ایک جنازے میں حضرت شعبی کو دیکھا، میں نے آپکو دیکھا کہ آپ جنازے کے پیچھے چل رہے تھے اور اس کو کندھا نہ دیا۔ اور نہ ہی اس کے پائیوں کو ہاتھ لگایا یہاں تک کہ میت کو قبر کے کنارے رکھ دیا گیا پھر آپ وہاں سے ہٹ کر بیٹھ گئے اور آپ اسوقت بوڑھے تھے۔
حواشی
(١) في [ص، ز]: (أخبرنا).
(٢) في [ز]: (زيد).
(٣) في [أ، ب]: (شفير).