مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
في الجنازة يسرع بها إذا خرج بها أم لا باب: جب جنازے کو قبرستان کی طرف لیکر جائیں تو تیز لے کر جائیں یا نہیں؟
حدیث نمبر: 11611
١١٦١١ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: حدثنا إسرائيل عن عبد اللَّه بن المختار عن معاوية بن (قرة) (٢) قال: (نا) (٣) أبو (كرب) (٤) (أو) (٥) أبو (حرب) (٦) عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٧) أنه أخبره: أن أباه أوصاه قال: إذا أنت حملتني على السرير فامش بي مشيًا بين المشيين، وكن خلف الجنازة، فإن مقدمها للملائكة وخلفها لبني آدم (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے وصیت فرمائی کہ جب تم مجھے چارپائی پر اٹھاؤ تو مجھے لے کر میانہ انداز میں چلو، اور جنازے کے پیچھے رہو، بیشک اس کے آگے ملائکہ ہوتے ہیں اور پچھلا حصہ انسانوں کے لیے ہے۔
حواشی
(١) في [ص، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ص]: (قروة).
(٣) في [أ، ب]: (حدثنا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (كريب).
(٥) في [أ، ب]: (و).
(٦) في [ص، هـ]: (حريب).
(٧) في [ص، هـ]: (عمر).