مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من رخص في الأذان بالجنازة باب: بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
١١٥٤٧ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عثمان بن حكيم عن (خارجة) (١) بن زيد عن عمه يزيد بن ثابت وكان أكبر من زيد قال: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ فلما وردنا البقيع إذا هو بقبر جديد (فسأل) (٢) عنه فقالوا: فلانة فعرفها، قال: فقال: "أفلا آذنتموني بها"، قالوا: كنت قائلا (صائمًا) (٣) فكرهنا أن نؤذنك، فقال: "لا تفعلوا، لا أعرفن، ما مات منكم ميت ما (كنت) (٤) بين أظهركم إلا آذنتموني به ⦗٥٣٥⦘ فإن صلاتي عليه (له) (٥) رحمة" (٦).حضرت خارجہ بن زید انپے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت زید سے بڑے تھے، فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں پر ایک نئی قبر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا فلاں عورت کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا : تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی ؟ لوگوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا تھا اس لیے ہم نے آپ کو اطلاع دینا ناپسند سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم ہرگز اس کا اعلان مت کرو مگر مجھے اس کے بارے میں اطلاع دیدو۔ بیشک میرا اس پر نماز پڑھنا اسکے لیے رحمت کا باعث ہے۔