مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
من قال ليس على غاسل الميت غسل باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص میت کو غسل دے اسکو غسل کرنا ضروری نہیں ہے
حدیث نمبر: 11468
١١٤٦٨ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن الجعد عن عائشة بنت سعد (قالت) (١): (أؤذن) (٢) سعد بجنازة (سعيد) (٣) بن (زيد) (٤) وهو بالبقيع فجاء وغسله وكفنه وحنطه ثم أتى (داره) (٥) (فصلى) (٦) عليه ثم دعا (بماء) (٧) (فاغتسل) (٨) ثم قال: إني لم اغتسل من غسله ولو كان نجسًا ما غسلته، ولكني اغتسلت من الحر (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد کو حضرت سعید بن زید کے جنازے پر بلایا گیا وہ بقیع کے ساتھ تھے، آپ تشریف لائے اور آپ نے ان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور پھر ان کو خوشبو لگائی، پھر آپ تشریف لائے اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور انکے بعد پانی منگوا کر غسل فرمایا اور ارشاد فرمایا : میں نے اس لیے غسل نہیں کیا کہ میں نے میت کو غسل دیا تھا، اگرچہ جس کو غسل دیا تھا وہ ناپاک ہی کیوں نہ ہو، بلکہ میں تو گرمی کی وجہ سے نہایا ہوں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (قال)، وكذا في [ز].
(٢) في [ز]: (أذن).
(٣) في [هـ، ب]: (سعد).
(٤) في [ز]: (يزيد).
(٥) في [ز]: (داراه).
(٦) في [ص]: (فصل).
(٧) سقط من: [ز].
(٨) في [ز]: (فاغسل).