١١٣٩٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن (خباب) (١) بن الأرت قال: هاجرنا مع رسول اللَّه ﷺ في سبيل اللَّه نبتغي وجه اللَّه (تعالى) (٢)، فوجب ⦗٥٠٠⦘ أجرنا على اللَّه، فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئًا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم أحد فلم (نجد) (٣) له شيئًا يكفن فيه إلا نمرة، وكنا إذا وضعناها على رأسه خرجت رجلاه، فإذا وضعناها على رجليه خرج رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ضعوها مما يلي رأسه واجعلوا على رجليه من الإِذْخِر"، و (٤) منا من أينعت له ثمرته فهو (يَهْدِبُها) (٥) (٦).حضرت خباب بن الارت فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کی خاطر نکلے، ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہے، فرماتے ہیں ہم میں سے بعض تو گذر گئے ان کے اجر میں کوئی کمی نہ کی گئی، ان ہی میں حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں جو غزوہ احد میں شریک ہو کر شھید ہوئے، ہمیں کوئی کپڑا نہ ملا جس میں آپ کو کفن دیتے سوائے ایک کپڑے کے، جب اس کو ہم سر کی طرف کرتے تو پاؤں برہنہ ہوجاتے اور پاؤں کی طرف کرتے تو سر برہنہ ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو سر کی جانب رکھ دو اور پاؤں پر ازخر کے پتے رکھ دو ۔ اور فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پھل لگنے والے ہیں اور وہ ان کو توڑتے ہیں۔