حدیث نمبر: 1138
١١٣٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه (بن عامر) (١) قال: رآني أبي أنا ورجل نغتسل يصب علي وأصب عليه، (قال) (٢): فصاح بنا وقال: أيرى الرجل عورة الرجل؟! واللَّه إني لأراكم الخلف.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے مجھے اس حال میں دیکھا کہ میں اور ایک آدمی دونوں غسل کر رہے تھے وہ مجھ پر پانی ڈال رہا تھا اور میں اس پر پانی ڈال رہا تھا۔ انہوں نے مجھے زور سے آواز دی اور فرمایا ” کیا ایک مرد دوسرے کا ستر دیکھ سکتا ہے ؟ خدا کی قسم ! تم میرے اچھے جانشین نہیں ہو۔ “
حواشی
(١) في حاشية [خ]: (ابن ربيعة العنزي).
(٢) سقط من: [أ، خ].