مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في الميت كم يغسل مرة؟ وما يجعل في الماء مما يغسل به؟ باب: غسل دیتے وقت میت کو کتنی مرتبہ دھویا جائے گا؟ اور جس پانی سے غسل دیا جا رہا ہے اس پانی میں کیا ملایا جائے گا؟
حدیث نمبر: 11224
١١٢٢٤ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: أخبرنا إسرائيل عن عبد اللَّه بن المختار عن معاوية بن قرة قال: حدثنا أبو (كرب) (٢) (أو) (٣) أبو حرب عن عبد اللَّه بن عمرو أن أباه (أوصاه) (٤) فقال: يا بني إذا مت فاغسلني غسلة بالماء ثم جففني (بثوب) (٥) ثم اغسلني (الثانية) (٦) بماء قراح ثم جففني (بثوب) (٧) (ثم إذا) (٨) ألبستني الثياب (فأزرني) (٩) (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کو وصیت فرمائی اے بیٹے ! جب میں مر جاؤں تو مجھے پانی سے غسل دینا پھر کسی کپڑے سے میرے جسم کو خشک کردینا اور پھر دوسری بار خالص پانی سے غسل دینا، اور پھر کپڑے سے سکھا دینا پھر جب تم مجھے کپڑے (کفن) پہنا دو تو مجھے ازار بھی پہنانا۔
حواشی
(١) في [هـ، أ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ز]: (كريب)، وفي [هـ]: (بكريب)، وانظر: عمدة القارئ (٨/ ٨)، ونصب الرآية (٢/ ٢٩٣)، والصواب أنه أبو حرب بن أبي الأسود كما في تاريخ دمشق (٤٦/ ١٩٩)، والطبقات الكبرى لابن سعد (٤/ ٢٦٠)، وسير أعلام النبلاء (٣/ ٧٦).
(٣) في [هـ، أ، ص]: (و).
(٤) في [ص]: (أوصى).
(٥) في [أ، ب، ح، ز]: (في ثوب).
(٦) في [ح، ص، ز]: (الثالثة).
(٧) في [أ، ح، ص، ز]: (في ثوب).
(٨) في [هـ]: (فإذا).
(٩) في [أ، هـ]: (فأروني) وفي [ح]: (فزدني).