مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنائز
ما قالوا في الميت كم يغسل مرة؟ وما يجعل في الماء مما يغسل به؟ باب: غسل دیتے وقت میت کو کتنی مرتبہ دھویا جائے گا؟ اور جس پانی سے غسل دیا جا رہا ہے اس پانی میں کیا ملایا جائے گا؟
حدیث نمبر: 11216
١١٢١٦ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن حفصة عن أم عطية قالت: لما ماتت زينب بنت رسول اللَّه ﷺ قال: " (اغسلنها) (١) وترًا ثلاثًا أو خمسًا واجعلن في (الآخرة) (٢) كافورًا أو شيئًا من كافور فإذا (غسلتنها) (٣) فأعلمنني"، فلما (غسلناها) (٤) أعلمناه فأعطانا حقوه فقال: "أشعرنها إياه" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو طاق غسل دینا تین یا پانچ مرتبہ اور آخر میں کافور یا کوئی اور خوشبو دار چیز لگانا جب تم غسل مکمل کرلو تو مجھے خبر دینا، جب ہم نے غسل مکمل کرلیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر ہمیں عنایت فرمائی اور فرمایا اس میں کفن دو ۔
حواشی
(١) في [ح، ز]: (اغسلوها).
(٢) في [ح، ز]: (الخامسة).
(٣) في [ص، ح]: (غسلنها)، وفي [ز]: (غسلتها).
(٤) في [ص]: (غلسناها).