١١١٨٩ - حدثنا أبو عامر العقدي عن محمد بن قيس قال: حدثني زرعة بن عبد الرحمن أنه شهد سعيد بن المسيب في مرضه وعنده أبو سلمة بن عبد الرحمن فغشي على سعيد، فأمر أبو سلمة أن يحول فراشه إلى الكعبة، فأفاق، فقال: حولتم فراشي؟ فقالوا: نعم، فنظر إلى أبي سلمة فقال: أراه (عملك) (١)، فقال: (أجل) (٢) أنا (أمرتهم) (٣)، (فقال) (٤): فأمر سعيد أن يعاد فراشه.حضرت زرعہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب کے مرض میں حاضر ہوا آپ کے پاس حضرت ابو سلمہ ابن عبد الرحمن تشریف فرما تھے۔ حضرت سعید بن المسیب پر غشی طاری ہوگئی، حضرت ابو سلمہ نے حکم دیا کہ حضرت سعید کا بستر قبلہ کی طرف پھیرا جائے جس کی وجہ سے آپ کو افاقہ ہوا۔ حضرت سعید نے پوچھا کہ تم نے میرے بستر کو پھیرا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، حضرت سعید نے حضرت ابو سلمہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تیرا کام ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے ہی انہیں کہا تھا، حضرت سعید نے اپنے بستر کو دوبارہ واپس اسی طرف پھیرنے کا حکم دے دیا۔