حدیث نمبر: 11155
١١١٥٥ - حدثنا وكيع عن سلمة بن وردان قال: سمعت أنس بن مالك يقول: (قال) (١) رسول اللَّه ﷺ لأصحابه: "من شهد منكم جنازة؟ " [قال عمر: أنا، (قال: "من عاد) (٢) منكم مريضًا؟ " (قال عمر: أنا قال) (٣): "من تصدق؟ " قا (ل عمر: أنا، قال) (٤): "من أصبح (منكم) (٥) (٦) صائمًا؟ " قال عمر: أنا] (٧)، قال ⦗٤٤٣⦘ النبي ﷺ: "وجبت (وجبت) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا : تم میں سے جنازہ میں کون حاضر ہوا ہے ؟ حضر ت عمر نے عرض کیا میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : تم میں سے مریض کی عیادت کس نے کی ہے ؟ حضرت عمر نے عرض کیا میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : صدقہ کس نے کیا ہے ؟ حضرت عمر نے عرض کیا میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی ؟ حضرت عمر نے عرض کیا میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہوگئی، واجب ہوگئی (جنت) ۔

حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) قوله (قال عمر: أنا قال: من عاد) سقط من: [ص].
(٣) سقط من: [ص].
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [هـ]: (منه)
(٦) في [ح]: زيادة (اليوم).
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٨) سقط من: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11155
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف سلمة بن وردان، أخرجه أحمد (١٢١٨١)، والبزار (١٠٤٣/ كشف)، والبغوي (١٦٤٧)، وابن عدي ٣/ ١١٨٠، وابن عساكر ٤٤/ ١٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11155، ترقيم محمد عوامة 10949)