حدیث نمبر: 11150
١١١٥٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثني موسى الجهني قال: سمعت سعيد ابن أبي بردة قال: حدثني أبي أن أبا موسى انطلق عائدًا (للحسن) (١) بن علي فقال له (علي) (٢): (أعائدًا) (٣) جئت (أم) (٤) زائرًا؟ قال: لا؛ بل زائرًا، قال: أما إنه (لا يمنعني -وإن) (٥) كان في نفسك (ما في نفسك) (٦) - أن أخبرك (أن) (٧) العائد إذا خرج من بيته يعود مريضًا كان (يخوض) (٨) في الرحمة خوضًا، فإذا انتهى إلى المريض فجلس غمرته الرحمة، (ويرجع) (٩) من عند المريض حين يرجع يشيعه سبعون ألف ملك يستغفرون له (نهاره) (١٠) أجمع، وإن كان ليلًا كان بذلك المنزل حتى يصبح، وله (خريف) (١١) في الجنة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن ابو بردہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مزاج پرسی کیلئے تشریف لے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا آپ زیارت کے لیے تشریف لائے ہیں یا عیادت کے لئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ زیارت کے لیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کے دل میں جو کچھ بھی ہے بہرحال وہ یعنی دل کا خیال مجھ کو یہ بات بیان کرنے سے نہیں روک سکتا کہ مریض کی مزاج پرسی کرنے والا جب گھر سے مریض کی عیادت کے لئے نکلتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے وہ رحمت میں گھس جاتا ہے اور جب وہ مریض کے پاس پہنچ کر بیٹھ جاتا ہے تو پھر رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور وہ رحمت میں غرق ہوجاتا ہے اور جب وہ مریض کی عیادت کر کے واپس آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے تمام دن مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر وہ رات کو عیادت کرتا ہے تب بھی اس کو یہ مقام و مرتبہ حاصل رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور اس کے لئے جنت کے میوے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ص، ز]: (للحسين).
(٢) في [أ، ب، ح، ص، ز]: زيادة (علي).
(٣) في [ح]: (عايدًا).
(٤) في [ط، هـ]: (أو).
(٥) سقط من: [ص].
(٦) سقط من: [ص].
(٧) سقط من: [ص].
(٨) في [أ، ب]: (تخوض)، وفي [ص]: (نخوض).
(٩) في [أ، ب، ك، هـ]: (حتى يرجع).
(١٠) في [أ، ب، ك، هـ]: (نهارًا).
(١١) في [أ، ب]: (خريد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11150
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11150، ترقيم محمد عوامة 10944)