١١١٤٧ - حدثنا شريك عن علقمة بن مرثد عن بعض آل أبي [موسى (الأشعري) (١) (أنه) (٢)] (٣) أتى عليًا فقال له: ما جاء بك، أجئت عائدًا؟ قال: ما علمت لأحد منكم بشكوى. فقال: بلى الحسن بن علي، ثم قال (علي) (٤): من عاد مريضًا نهارًا صلى (٥) عليه سبعون ألف ملك حتى (يمسي، ومن عاد ليلًا صلى ⦗٤٣٩⦘ عليه سبعون ألف ملك حتى) (٦) يصبح (٧).حضرت علقمہ بن مرثد آل ابو موسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا آپ کیوں تشریف لائے ؟ کیا آپ مزاج پرسی کیلئے تشریف لائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کوئی بیمار ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں حسن بن علی رضی اللہ عنہ (بیمار ہیں) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس نے صبح کے وقت مریض کی عیادت کی اس کیلئے ستر ہزار فرشتے شام تک دعائے مغفرت فرماتے ہیں، اور جو شام کے وقت مریض کی عیادت کرتا ہے اس کیلئے ستر ہزار فرشتے صبح تک دعائے مغفرت فرماتے رہتے ہیں۔