١١١٤٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: جاء أبو موسى إلى الحسن بن علي يعوده وكان شاكيًا فقال له علي: ⦗٤٣٨⦘ عائدًا جئت أم شامتًا؟ فقال: لا بل (عائدًا) (١)، فقال له علي: (أما إذ) (٢) جئت عائدًا (فإني) (٣) سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من (أتى) (٤) أخاه (المسلم) (٥) يعوده مشى في (خرافة) (٦) الجنة حتى يجلس، فإذا جلس غمرته الرحمة، وإن كان (غدوة) (٧) صلى عليه سبعون ألف ملك حتى (يمسي) (٨)، وإن كان مساءً صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح" (٩).حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے، وہ بیماری کی وجہ سے تکلیف محسوس کر رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا : مزاج پرسی کے لئے تشریف لائے ہیں یا دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونے کے لئے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مزاج پرسی کے لئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اگر آپ مزاج پرسی کئے ے تشریف لائے ہیں تو میں نے خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے ہیں جو شخص مسلمان کی عیادت کے لئے آتا ہے وہ جنت کے پھلوں (باغات) میں چلتا ہے یہاں تک کہ بیٹھ جائے، پھر جب بیٹھ جاتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے، اگر وہ صبح کے وقت آتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت فرماتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لئے دعائے مغفرت فرماتے رہتے ہیں۔