حدیث نمبر: 11130
١١١٣٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن بعض أصحابه عن الحكم عن ربيع بن عميلة عن عمار [قال: كان عنده أعرابي فذكروا الوجع فقال عمار: (ما) (١) اشتكيت قط؟ فقال: لا، فقال عمار] (٢): ما أنت منا -أو لست منا-، ما من عبد يبتلى إلا حط عنه خطاياه كما تحط الشجرة ورقها، وإن الكافر يبتلى، فمثله (كمثل) (٣) البعير عُقِل (فلم يدر (لم) (٤) عقل (٥) (فأطلق) (٦) فلم يدر (لم) (٧) أطلق (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ربیع بن عمیلہ سے مروی ہے کہ حضر ت عمار کے پاس ایک اعرابی تھا، ان کے سامنے لوگوں نے تکلیف اور بیماری کا ذکر کیا۔ حضرت عمار نے فرمایا : تجھے کبھی بیماری کی شکایت ہوئی ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا تو ہم میں سے نہیں ہے۔ کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جس کو تکلیف میں مبتلا کیا جائے مگر اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتے اور بیشک کافر کو تکلیف میں مبتلا کیا جاتا ہے اس کی مثال تو اونٹ کی طرح ہے جب اس کو باندھا جائے تو وہ نہیں جانتا کہ کیوں باندھا گیا ہے اور جب اس کو چھوڑ دیا جائے تو نہیں جانتا کیوں چھوڑا گیا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ] (هل).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [ح].
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [هـ، ص، أ، ب]: [لما].
(٥) سقط من: [ك].
(٦) في [ز]: (وأطلق).
(٧) في [هـ، ص، أ، ب]: [لما].
(٨) مجهول؛ لجهالة شيخ شعبة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11130، ترقيم محمد عوامة 10924)