١١١٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن عمارة عن سعيد بن (وهب) (١) قال: انطلقت مع سلمان إلى صديق له يعوده من كندة فقال: إن المؤمن يصيبه اللَّه بالبلاء ثم يعافيه فيكون [كفارة لسيئاته (ويستعتب) (٢) فيما بقي، وإن الفاجر يصيبه اللَّه بالبلاء ثم يعافيه فيكون] (٣) كالبعير عقله أهله لا يدري لم عقلوه ثم أرسلوه، فلا يدري (لم) (٤) أرسلوه (٥).حضرت سعید بن موھب فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ ان کے دوست کی عیادت کے لئے کندہ سے چلا، آپ نے فرمایا مسلمان کو جب کوئی تکلیف اللہ پہنچاتا ہے پھر اس کو دور کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، اور راضی کردیا جاتا ہے جو کچھ باقی ہے اس میں۔ اور گناہ گار اور فاجر کو جب اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچاتا ہے۔ پھر اس کو عافیت دیتا ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوجاتا ہے جس کا مالک اس کی ران اور کلائی کو باندھ دے تا کہ وہ چل نہ سکے اس کو نہیں پتا کہ اس کو کیوں باندھا گیا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے تو اس کو نہیں معلوم کہ کیوں چھوڑا گیا ہے۔