حدیث نمبر: 11118
١١١١٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن واصل (عن) (١) (بشار (٢) (بن) (٣) أبي سيف عن الوليد بن عبد الرحمن عن عياض بن غطيف (٤) (قال: دخلنا على) (٥) أبي عبيدة بن الجراح (نعوده) (٦) فإذا وجهه مما يلي الجدار وامرأته قاعدة عند رأسه، قلت: كيف بات أبو عبيدة؟ قالت: بات بأجر، فأقبل علينا بوجهه فقال: إني لم ابن بأجر (٧)، ومن ابتلاه اللَّه ببلاء في جسده فهو له (حطة) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عیاض بن غطیف فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی عیادت کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کا چہرہ دیوار کی جانب تھا اور آپ کی اہلیہ آپ کے سر کے پاس بیٹھی تھی۔ میں نے عرض کیا حضرت ابو عبیدہ نے رات کیسے گذاری ؟ اہلیہ نے فرمایا انہوں نے رات اجر کی حالت میں گذاری۔ حضرت ابو عبیدہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں نے رات اجر کماتے ہوئے نہیں گذاری جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف دے کر آزماتا ہے تو وہ تکلیف اس کے گناہوں کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ص]: (ابن).
(٢) في [أ]: (يسار).
(٣) في [أ، ب، ص]: (عن).
(٤) زاد في [هـ، أ، ب]: (رفعه إلى النبي ﷺ).
(٥) في [ك]: (قال: دخلت).
(٦) في [أ، ب]: (نعود) وفي [ح]: (يعوده).
(٧) في [هـ، ز] زيادة: (فقيل).
(٨) في [هـ، أ، ص]: (حظه).
(٩) مجهول؛ بشار بن أبي سيف مجهول، وقد روي مرفوعًا، انظر ما بعده.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 11118
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11118، ترقيم محمد عوامة 10912)