مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من كره أن يتصدق الرجل بشر ماله باب: گھٹیا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے
١١٠٩٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن السدي عن أبي مالك عن البراء في قوله (تعالى) (١): ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ﴾ قال: نزلت فينا كنا أصحاب نخل فكان الرجل يأتي من نخله بقدر قلته وكثرته، قال: فكان الرجل يأتي بالقنو والرجل يأتي بالقنوين، فيعلقه في المسجد (قال) (٢): وكان أهل الصفة ليس لهم طعام (قال) (٣) فكان أحدهم إذا جاء إلى القنو (فيضربه) (٤) بعصا، فيسقط منه التمر والبسر، فيأكل وكان أناس ممن لا يرغب في الخير، فيأتي أحدهم بالقنو فيه الحشف وفيه الشيص، ويأتي بالقنو قد انكسر، فيعلقه قال: فأنزل اللَّه: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [البقرة: ٢٦٧]، قال: لو أن أحدكم أهدي إليه مثل ما أعطى لم يأخذه إلا على إغماض وحياء. قال: فكان بعد ذلك يأتي الرجل بصالح ما عنده (٥).حضرت براء فرماتے ہیں کہ { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ } ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ ہماری قوم کھجوروں والی تھی۔ ہم میں سے (ہر شخص) قلت اور کثرت کی بقدر کھجوریں لایا کرتا۔ پس کوئی شخص ایک خوشہ اور کوئی دو خوشے لا کر مسجد میں لٹکا دیتا، اصحاب صفہ کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا ان میں سے کوئی شخص آتا اور لاٹھی سے کھجور کے خوشہ پر ضرب لگاتا تو اس میں خشک اور تر کھجوریں گرتیں جن کو وہ کھا لیتا، کچھ لوگ (ہم میں سے) خیر کے کاموں کی طرف راغب نہ تھے وہ خراب اور فاسد کھجوروں کا خوشہ لے کر آتے اور اس کو مسجد میں لٹکا دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہ } نازل فرمائی۔ اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص جو کچھ ادا کرتا ہے اگر اس کے مثل اس کو ہدیہ کیا جائے تو وہ اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے حیاء کی وجہ سے لیتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہر شخص ہم میں سے عمدہ اور اچھا مال صدقہ کرتا۔