مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الركاز يجده القوم فيه زكاة باب: کسی قوم کو کوئی خزانہ ملے تو اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 11090
١١٠٩٠ - حدثنا غندر (عن شعبة) (١) عن إبراهيم بن المنتشر عن أبيه أن رجلًا سأل عائشة فقال: إني وجدت كنزًا، فدفعته إلى السلطان، فقالت: في فيك (الكتكت) (٢) أو كلمة نحوها، الشك مني (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن المنتشر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ مجھے خزانہ ملے تو کیا میں وہ حکمران کے سپرد کر دوں ؟ آپ نے فرمایا تیرے منہ میں خاک یا اس سے ملتا جلتا کلمہ ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ شک میری طرف سے ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) أي الخيبة انظر: مشارق الأنوار ٢/ ١٠٤؛ وقيل: الصوت الذي لا فائدة منه، انظر القاموس المحيط ١/ ٢٠٣، ويحتمل أن يكون (الكثكث) بالثاء؛ أي التراب، انظر: غريب الحديث للخطابي ١/ ٣٤٧، والنهاية ٤/ ١٥٢.