مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الركاز يجده القوم فيه زكاة باب: کسی قوم کو کوئی خزانہ ملے تو اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 11087
١١٠٨٧ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن أبي قيس عبد الرحمن بن (ثروان) (١) عن (هزيل) (٢) قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: إني وجدت مئين من (الدراهم) (٣)، فقال عبد اللَّه: لا أرى (المسلمين) (٤) بلغت أموالهم، هذا أراه ركاز؛ ⦗٤١٦⦘ مال عادي، فأد خمسه في بيت المال و (لك) (٥) ما بقي (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے دو سو دراھم ملے ہیں، حضرت عبد اللہ نے ان سے فرمایا کہ میرا خیال نہیں ہے مسلمانوں کا مال تجھے ملا ہو بلکہ میرا خیال ہے کہ یہ قدیم مدفون مال ہے تو اس میں سے خمس بیت المال مں ا ادا کر دے اور باقی سارا مال تیرا ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: (ثوران).
(٢) في [ك، هـ] (هذيل).
(٣) في [ح، ص، ز، ك]: (دراهم).
(٤) في [هـ]: (للمسلمين).
(٥) في [هـ]: (خذ).