حدیث نمبر: 11085
١١٠٨٥ - حدثنا معتمر عن (عمر) (١) الضبي قال: بينا قوم عندي (بسابور) (٢) (يلتون) (٣) أو يثيرون الأرض إذ أصابوا كنزًا وعليها محمد بن جابر الراسبي، فكتب فيه إلى عدي، فكتب عدي إلى عمر بن عبد العزيز، فكتب عمر أن خذوا (منهم) (٤) الخمس، واكتبوا (لهم) (٥) (البراءة) (٦)، (ودعوا سائره لهم، فدفع إليهم المال وأخذ منه الخمس) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر الضبی فرماتے ہیں کہ ہمارے مقام سابور میں کسی قوم کے کچھ لوگ زمین کھود رہے تھے، اچانک خزانہ ان کے ہاتھ لگا، ان کے نگران محمد بن جابر الراسبی تھے۔ انہوں نے اس کے بارے میں حضرت عدی کو لکھا، حضرت عدی نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو لکھا، حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا کہ اس میں سے خمس وصول کرلو اور ان کیلئے براءت لکھ دو اور باقی سب ان کا ہے ان کیلئے چھوڑ دو ۔ (جب یہ مکتوب موصول ہوا تو) انہوں نے مال واپس کردیا اور اس میں سے خمس وصول کرلیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (معمر).
(٢) في [هـ]: (يسألون).
(٣) في [هـ]: (يبثون)؛ وفي [هـ]: (يلبثون).
(٤) في [هـ]: (منه).
(٥) في [ب، ك، ز]: (منهم).
(٦) في [ز]: (العراة).
(٧) سقط من: [أ، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11085
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11085، ترقيم محمد عوامة 10878)