مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الركاز يجده القوم فيه زكاة باب: کسی قوم کو کوئی خزانہ ملے تو اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 11084
١١٠٨٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أن رجلًا وجد في (خربة) (١) ألفًا وخمسمائة، فأتى عليًا فقال: أد (خمسها) (٢) ولك ثلاثة أخماسها وسنطيب لك الخمس الباقي (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ ایک شخص کو ویران جگہ سے پندرہ سو (درہم) ملے وہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اس کا خمس ادا کرو اور اس کے تین خمس تیرے لئے ہیں۔ اور عنقریب ہم باقی خمس تیرے لئے پاک کردیں گے۔
حواشی
(١) في [ح]: (خرقة).
(٢) في [أ، ح، ص]: (خمس مائة من ذاك).