مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الركاز يجده القوم فيه زكاة باب: کسی قوم کو کوئی خزانہ ملے تو اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟
حدیث نمبر: 11078
١١٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن بشر العبدي قال: (حدثنا) (٢) هشام بن (سعد) (٣) قال: حدثني عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رجل: يا رسول اللَّه ما كان في الطريق (غير الميتاء) (٤) أو القرية المسكونة، قال: "فيه وفي الركاز الخمس" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! جو چیز ہمیں غیر آباد راستے اور غیر آباد جگہ (گاؤں وغیرہ) سے ملے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس میں اور مدفون خزینے میں خمس ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (نا).
(٢) في [هـ]: (نا).
(٣) في [هـ، ب]: (سعيد).
(٤) في [ص، ح، ك، ز، أ]: (غير الميتة)، وفي [هـ]: (الميناء).