حدیث نمبر: 11059
١١٠٥٩ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عكرمة بن خالد قال: استعملت على صدقات عك، فلقيت أشياخًا ممن صدق على عهد رسول اللَّه ﷺ (البقر) (١) وسألتهم، فاختلفوا علي، فمنهم من قال: (اجعلها) (٢) مثل صدقة الإبل، ومنهم من قال: في ثلاثين تبيع، ومنهم من قال: في أربعين بقرة (٣) مسنة (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ میری ملاقات ان بزرگوں سے ہوئی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں گائے کی زکوٰۃ وصول فرمایا کرتے تھے۔ ان سب نے مجھ سے اختلاف کیا (ہر ایک نے دوسرے سے علیحدہ بات کی) ان میں سے بعض حضرات نے فرمایا : اونٹوں کی مثل اس میں وصول کرو۔ اور بعض نے فرمایا تین گائیوں پر ایک تبیع وصول کرو اور بعض حضرات نے فرمایا چالیس گائیوں پر ایک مسنہ (وہ گائے کا بچہ جو تین سال کا ہو) وصول کرو۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب، ح، ص، ز، ك]: (جعلها).
(٣) في [أ، ز] زيادة: (بقرة).
(٤) زياده في [هـ]: (والجواميس تعد في الصدقة كالأباقير).
(٥) مجهول؛ الأشياخ لم تثبت لهم صحبة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 11059
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11059، ترقيم محمد عوامة 10852)