مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما (يؤخذ) من الكروم والرطاب والنخل وما يوضع على الأرض باب: انگور کی بیل، تر اور خشک کھجور اور جو کچھ زمین اگلے اس پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 11033
١١٠٣٣ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن عمر أنه بعث عثمان بن ⦗٣٩٩⦘ خيف على السواد، فوضع على كل (جريب) (١) عامرًا و (غامرًا) (٢) يناله الماء درهمًا وقفيزًا يعني الحنطة والشعير، وعلى كل (جريب) (٣) (٤) الكرم عشرة (٥)، وعلى (كل) (٦) (جريب) (٧) (الرطبة) (٨) خمسة (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عثمان بن حنیف کو عراق بھیجا تو انہوں نے ہر وہ زمین جہاں پانی پہنچتا ہو خواہ آباد ہو یا غیر آباد اور گندم والی ہو یا اس میں جو ہو اس کے ہر جریب پر ایک درہم مقرر فرمایا اور انگور والی زمین کے جریب پر دس درہم اور تر کھجور کے جریب پر پانچ درہم مقرر فرمائے۔
حواشی
(١) في [ص]: (حريث).
(٢) في [أ، ب، ح]: (عامرًا).
(٣) في [ص]: (حريث).
(٤) في [ب]: زيادة (من).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (دراهم).
(٦) سقط من: [ب، ز، ك].
(٧) في [ص]: (حريث).
(٨) في [ب، ز، ك]: (الرطب).
(٩) منقطع ضعيف، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، والحكم لا يروي عن عمر.