مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما (يؤخذ) من الكروم والرطاب والنخل وما يوضع على الأرض باب: انگور کی بیل، تر اور خشک کھجور اور جو کچھ زمین اگلے اس پر زکوٰۃ کا بیان
١١٠٣٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي عون محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الثقفي قال: وضع عمر بن الخطاب على أهل السواد على كل (جريب) (٢) (أرض) (٣) (يبلغه) (٤) الماء عامرًا و (غامرًا) (٥) درهمًا وقفيزًا من طعام، وعلى البساتين على كل (جريب) (٦) عشرة دراهم وعشرة أقفزة من طعام، وعلى الكروم على (كل) (٧) (جريب) (٨) أرض عشرة (دراهم) (٩) وعشرة أقفزة (من) (١٠) طعام، وعلى الرطاب على (كل) (١١) (جريب) (١٢) أرض خمسة (دراهم) (١٣) ⦗٣٩٨⦘ وخمسة أقفزة طعام. ولم يضع على النخل شيئًا، وجعله تبعًا للأرض وعلى رؤوس الرجال: على الغني ثمانية (وأربعين) (١٤) درهمًا، وعلى الوسط أربعة (وعشرين) (١٥) درهمًا، وعلى (الفقير) (١٦) (اثني) (١٧) (عشر) (١٨) درهمًا (١٩).حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ الثقفی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے عراق والوں پر جریب زمین پر جس کو پانی پہنچتا ہو خواہ وہ زمین آباد ہو یا غیر آباد ایک درہم اور طعام میں سے ایک قفیز مقرر فرمایا، اور باغات والوں پر ہر جریب زمین پر دس درہم اور دس قفیز کھانے میں سے، اور انگور والوں پر ہر جریب زمین پر دس درہم اور قفیز کھانے میں سے، اور تر کھجوروں میں ہر جریب زمین پر پانچ درہم اور پانچ قفیز کھانے میں سے مقرر فرمایا۔ اور جس درخت پر کچھ نہ لگتا تھا اس کو زمین کے تابع کردیا، اور مردوں میں مالداروں پر اڑتالیس درہم خراج، درمیانے درجے کے لوگوں پر چوبیس درہم اور فقیروں پر بارہ درہم خراج مقرر فرمایا۔