مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
(من قال لا تحل الصدقة على بني هاشم) باب: بنو ہاشم کو صدقہ (زکوٰۃ) دینا جائز نیںی ہے
حدیث نمبر: 11017
١١٠١٧ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي (قرة) (٢) الكندي (عن سلمان) (٣) قال: احتطبت حطبًا (فبعته) (٤) فأتيت (به) (٥) النبي ﷺ، فوضعته بين يديه، فقال: "ما هذا؟ ". (فقلت) (٦): صدقة، فقال (النبي ﷺ) (٧) (لأصحابه) (٨): "كلوا"، (ولم) (٩) (يأكل) (١٠) (١١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے کچھ لکڑیاں جمع کیں اور ان کو فروخت کر کے (ان کا منافع) لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا صدقہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کھاؤ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس میں سے تناول نہیں فرمایا۔
حواشی
(١) في [ص]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (مرة).
(٣) سقط من [ك]، وفي [أ، ب، ح، هـ]: (عن سليمان).
(٤) في [أ، ح]: (فبعثته).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [أ، ح، ز، ص]: (قلت).
(٧) في [أ، ح، ص]: (لأصحابه).
(٨) سقط من: [ب، ك، هـ].
(٩) في [ز]: (فلم).
(١٠) في [ح]: (يؤكل).