مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من كان لا يرى العشور في السنة إلا مرة باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عشر صرف سال میں ایک مرتبہ (واجب) ہے
حدیث نمبر: 10896
١٠٨٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن غالب (١) أبي الهذيل عن إبراهيم قال: جاء نصراني إلى عمر، فقال: إن عاملك عشر في السنة مرتين (٢)، فقال: من أنت؟ فقال: أنا الشيخ النصراني، فقال (له) (٣) عمر: وأنا الشيخ الحنيف، فكتب إلى عامله أن لا تعشر في السنة إلا مرة (٤).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق کے پاس نصرانیوں کا شیخ آیا اور کہنے لگا کہ آپ کا عامل سال میں دو بار عشر وصول کرتا ہے، آپ نے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ اس نے کہا نصرانیوں کا شیخ (امیر) ، حضرت عمر فاروق نے فرمایا میں دین حنیف کا شیخ (امیر) ہوں۔ پھر آپ نے اپنے عامل کو لکھا کہ سال میں صرف ایک بار عشر وصول کیا کرو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ح، هـ] زيادة: (بن).
(٢) في [أ، ح]: (مرتين مرتين).
(٣) زيادة من [أ، ح، ص، هـ].
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر.