حدیث نمبر: 10893
١٠٨٩٣ - حدثنا يعلى عن يحيى بن سعيد عن (رزيق) (١) مولى بني فزارة أبي عمر بن (الخطاب) (٢) كتب إليه: خذ ممن مر بك من تجار أهل الذمة فيما يظهرون ⦗٣٥٧⦘ من أموالهم ويديرودن من التجارات من كل عشرين دينارًا (دينارًا) (٣)، فما نقص منها فبحسابها حتى (تبلغ) (٤) عشرة، فإذا (نقصت) (٥) ثلاثة دنانير، فدعها لا تأخذ منها شيئًا واكتب لهم براءة إلى مثلها من الحول بما تأخذ منهم.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے میری طرف لکھ کر بھیجا کہ : ذمی تاجر جو تیرے پاس سے گذریں اور جو مال ان کا ظاہر کیا جاتا ہے اور تجارت میں گھومتا ہے تو ہر بیس دینار پر ایک دینار وصول کرنا، اور جو اس سے کم ہو تو اس سے اسی کمی کے حساب سے وصول کرنا، یہاں تک کہ دس تک پہنچ جائے، پھر جب اس سے بھی تین دینار کم ہوجائیں تو پھر چھوڑ دے کچھ بھی وصول نہ کرو اور ان کیلئے ان سے براءت لکھ دو جو (آگے) وصول کرنے والے ہیں۔

حواشی
(١) في [ص]: (رزين).
(٢) كذا في النسخ ولعلها (عبد العزيز) لأنه لم يدرك (ابن الخطاب) ﵁؛ وإنما كان (رزيق) عاملًا لبني أمية.
(٣) في [أ، ح]: (دينار).
(٤) في [ح]: (يبلغ).
(٥) في [أ، ح]: (انقضت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10893
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10893، ترقيم محمد عوامة 10689)