مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
(ما قالوا) في العاشر يستحلف أو (يفتش) (أحدا) باب: عشر وصول کرنے والا قسم اٹھوائے گا یا کسی سے تفتیش کرے گا
حدیث نمبر: 10875
١٠٨٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن الزبرقان عن عبد اللَّه بن (معقل) (٢) أنه كان على العشور، فكان يستحلفهم، فمر (به) (٣) أبو وائل فقال: لم تستحلف الناس على أموالهم (ترمي) (٤) بهم في جهنم؟ (فقال) (٥): إني لو لم أستحلفهم لم يعطوا شيئًا قال: إنهم (إن) (٦) لا يعطوك خير من أن تستحلفهم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن معقل عشر وصول کرنے پر مقرر تھے، وہ ان سے قسم لیا کرتے تھے۔ حضرت ابو وائل ان کے پاس سے گذرے تو ان سے فرمایا لوگوں سے قسم نہ لیا کرو ان کے مال کے بارے میں کیوں ان کو جہنم میں پھینکتے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن معقل نے فرمایا کہ اگر میں قسم نہ لوں تو وہ کچھ بھی ادا نہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ ان کا کچھ نہ ادا کرنا اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان سے قسم اٹھواؤ۔
حواشی
(١) في [ب]: (عوام).
(٢) في [أ، ب، ز، هـ] (مغفل)؛ وانظر: تاريخ الإسلام ٩/ ١٣٥ والجرح والتعديل ٣/ ٦١٠ وكنى الدولابي ١/ ١١٨.
(٣) في [ك، ب]: (بهم).
(٤) في [ص]: (يرمى).
(٥) في [ب، ز، ك]: (قال).
(٦) زيادة في [ف، هـ].