حدیث نمبر: 10856
١٠٨٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: (للزكاة) (١) حد معلوم (فإذا) (٢) جاء ذلك حسب (ماله) (٣) الشاهد والغائب، فيؤدي عنه إلا ما كان من دين (عليه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حسن فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کی مقدار اور حد معلوم ہے، جب وہ مقدار آجائے تو جو مال موجود ہے اور جو غائب ہے ان سب کا حساب کر اور اس پر زکوٰۃ ادا کر، ہاں مگر جو تجھ پر قرض ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (للزكووة).
(٢) في [ب]: (إذا).
(٣) في [ص]: (قاله).
(٤) سقط من: [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10856
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10856، ترقيم محمد عوامة 10656)