مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الرجل يصدق إيله أو غنمه (يشتريها) من الصدق باب: آدمی کا اونٹ یا بکری صدقہ (زکوٰۃ) کرنے کے بعد دوبارہ اس کا مصدق سے خریدنے کا بیان
حدیث نمبر: 10799
١٠٧٩٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابرًا يقول إذا جاء المصدق، فادفع إليه صدقتك ولا (تبتعها) (١) قال: (فإنهم) (٢) يقولون: (ابتعها) (٣)، فأقول: (لا) (٤) إنما هي للَّه (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو اس کو اپنی زکوٰۃ ادا کردو۔ اور اس سے نہ خریدو وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے خرید لو۔ میں کہتا ہوں کہ بیشک وہ تو اب اللہ کا ہوگیا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك]: (تبتاعها) وفي [ح]: (يبتاعها).
(٢) في [ص]: (وإنهم).
(٣) في [أ، ب، ح، ز، ك]: (ابتاعها) وفي [ص]: (أبيعها).
(٤) سقط من: [ص].