حدیث نمبر: 10759
١٠٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن عقبة عن القاسم قال: كان أبو بكر إذا أعطى (الناس) (١) العطاء (سأل) (٢) (الرجل: ألك) (٣) مال؟ (فإن) (٤) قال: نعم. زكى ماله من عطائه وإلا سلم له عطاءه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر جب بیت المال سے کسی کو وظیفہ دیتے تو اس سے دریافت فرماتے کہ کیا تیرے پاس مال موجود ہے ؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہوتا تو آپ اس کے وظیفہ کے مال میں سے زکوٰۃ نکال لیتے وگرنہ اسکے سپرد کردیتے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (إنسانًا).
(٢) في [أ، ح]: (يسأل)، وفي [هـ]: (سأله).
(٣) في [هـ]: (هل لك).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) منقطع؛ القاسم لا يروي عن أبي بكر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10759
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10759، ترقيم محمد عوامة 10564)