مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا في العبد يكون غائبا في أرض (لمولاه) يعطي عنه؟ باب: اگر غلام آقا سے غائب ہوں اس ہی کی زمین میں تو کیا اس کی جانب سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 10677
١٠٦٧٧ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني أمية بن أبي عثمان (عن أمية بن عبد اللَّه) (١) أن نافع بن علقمة كتب إلى عبد الملك بن مروان يسأله عن (العبد في) (٢) الحائط والماشية عليه زكاة يوم الفطر؟ قال: لا، من أجل أن الحائط والماشية الذي هو فيها (إنما) (٣) (صدقت) (٤) به، فليس عليه زكاة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت امیہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن علقمہ نے عبد الملک بن مروان کو لکھا کہ کیا جو غلام باغ میں (کام کرتا ہو) اور جو غلام مویشوں کے ساتھ ہو اس پر بھی صدقۃ الفطر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ کیونکہ وہ غلام جو باغ میں ہو یا مویشوں کے ساتھ ہو تو نے ان کی زکوٰۃ تو ادا کر ہی دی ہے اس لیے اس پر صدقۃ الفطر نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (بياض).
(٢) في [ب]: (بياض).
(٣) في [ح]: (أنا).
(٤) سقطت من [أ، ح].